حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 5 اگست، قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 38ویں برسی کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 5 اگست تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، جس روز قائد ملت جعفریہ علامہ عارف حسین الحسینی کو گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا: اگرچہ علامہ عارف حسین الحسینی کا تعلق مذہبی طبقے سے تھا، تاہم انہوں نے ایک نئی سوچ، فکر اور طرزِ عمل متعارف کرایا۔ انہوں نے مظلوموں اور محکوموں کے لیے بھرپور آواز بلند کی اور اتحاد و وحدت کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: قائد شہید نے مارشل لاء کے دور میں جہاں عوام کو ان کے حقوق کا شعور دیا وہاں تمام مکاتبِ فکر کے عوام کو اتحاد، وحدت اور باہمی ہم آہنگی کا درس دیا۔ انہوں نے عملی طور پر اتحاد بین المسلمین کے لیے خدمات انجام دیں اور پاکستان کے مسلمانوں کو ایک لڑی میں پرونے کی بھرپور کوشش کی۔
انہوں نے کہا: شہید قائد کے پیروکاروں کو چاہیے کہ وہ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی شخصیت اور افکار کا گہرا مطالعہ کریں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے امت مسلمہ کے مظلوم طبقات کے لیے آواز بلند کریں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: غزہ، فلسطین، لبنان اور کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے ساتھ پاکستان میں محروم و مظلوم طبقات کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی جدوجہد جاری رکھی جائے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا: شہید قائد کے افکار کی روشنی میں فرقہ واریت کے خاتمے، طبقاتی تقسیم، بدعنوانی، بے راہ روی اور دیگر معاشرتی مسائل کے خاتمے کے لیے بھرپور جدوجہد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کے پیروکاروں کو مکمل عزم، جذبے اور استقامت کے ساتھ ان کے مشن کو آگے بڑھانا چاہیے اور ملک و ملت کی فلاح، اتحاد بین المسلمین اور مظلوموں کی حمایت کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔









آپ کا تبصرہ